تازہ ترین

اسرائیل کے خلاف آشکار اور حتمی کامیابی کا وقت آن پہنچا ہے

کیٹیگری لبنان
Saturday, 07 October 2017


حزب اللہ کے لبنان کی پارلیمنٹ میں سابقہ نمائندہ جمال الطقش نے سید حسن نصراللہ کی روز عاشورا کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے صدور کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا ہے کے یہ علاقے کو ایک اور جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا روکنا مشکل ہو گا اور یھودیوں سے چاہا ہے کے صہیونیوں سے اپنا حساب جدا کریں۔

یاد رہے کہ سید حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ میں آج تمام یہودیوں سے چاہتا ہوں کہ وہ صہیونیوں سے اپنا حساب جدا کر لیں کہ جو اپنے آپ کو یقینی ہلاکت کی طرف لے جا رہے ہیں اور جو ممالک فلسطین میں لالچی ارادوں سے آئے ہیں، وہ جلد از جلد یہاں سے چلیں جائیں تاکہ وہ اس آگ کا ایںدھن نہ بنے جو نتین یاہو کی غاصب حکومت نے ان کے لیے لگائی ہے۔

حزب اللہ کے لبنان کی پارلیمنٹ میں سابقہ نمائندہ جمال طقش نے مزید کہا کہ حسن نصراللہ کی تقریر کے اثرات حزب اللہ اور اسرائیل کے طاقتی توازن پر اثر انداز ہوں گے۔

جمال الطقش نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ہماری یہ عادت بنا دی ہے کہ آگے بڑھیں اور مزید واضح طریقے سے بیان کریں تو جو کامیابیاں علاقے میں حاصل ہوئی ہیں، مزاحمت کی وجہ سے اور جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کا احسن طریقے سے مشاہدہ کرنا چاہئے اور ہونے والی تبدیلیوں اور کامیابیوں کے عوامل کو پہچاننا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے اسرائیل داعش اور دوسرے تکفیری گروہوں کا پشتیبان رہا ہے اور انشاء اللہ اب وقت آگیا ہے کہ اس کےچہرے کو بے نقاب کیا جائے اور اس کے بعد جو کامیابیاں ملی ہیں اور انشاء اللہ اب کام اختتام کے قریب ہے اور اسلئے اختتامی بات کی جائے جبکہ حزب اللہ کے سربراہ کی گفتگو سے یہی بات واضح ہوجاتی ہےکہ یہ تبدیلیاں میدان جنگ سے متعلق تھیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو کہیں کہ وہ اپنی حدود کو پہچانے اور پانچ سالہ جنگ میں وہ جن گروہوں کی حمایت کرتا رہا ہے، وہ نابودی کے دہانے پر ہیں اور اب وہ اپنی حفاظت کے بارے میں غور و فکر کرے اور اس مرحلے کے بعد ہماری فتح واضح اور یقینی ہے۔

اسرائیلیوں کا جنگی مشقوں میں ناکامی پر اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طقش نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور کہا کہ صیہونیوں کی آخری مشقیں دو حصوں پر مشتمل تھیں، پہلا بڑا حصہ دفاعی اور دوسرا حصہ اٹیک ٹریننگ پر مشتمل تھا۔ اسرائیل کی کوشش تھی کہ ان مشقوں کے ذریعے لبنان کے لوگوں پر دباو ڈالیں لیکن اس میں ناکامی اور مایوسی ہوئی۔ اسی دلیل کی بنا پر ہم نے کہا ہے اور اسرائیلیوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ان مشقوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ غاصبوں کو ناکامی اور مایوسی ملی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت اور کامیابی کا محور مزاحمتی بلاک بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مدد اور راہنمائی تھی اور اسی طریقے سے آئندہ بھی کا میابیاں حاصل کریں گے۔

پڑھا گیا 465 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

مقالہ جات

تشیع پاکستان اور استعماری فتنے

تشیع پاکستان اور استعماری فتنے

انیسویں اور بیسوی صدی عیسوی میں برطانوی استعمار نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں بہت سارے فتنوں کی بنیاد رکھی۔ بوڑھے استعمار نے کہیں پر سرحدوں کا مسئلہ کھڑا ...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org